"Ruh-Navesht— Writings of Soul

Full width home advertisement

الوداع

الوداع

 




کچھ الوداع لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے؛ وہ زبان سے نہیں، روح سے ادا ہوتے ہیں۔ وہ لمحہ جب آدمی ہونٹوں پر مسکراہٹ رکھ کر دل کے اندر ایک پوری کائنات دفن کر دیتا ہے—وہی اصل الوداع ہے۔ طالبِ علم کا ماں سے بچھڑنا بھی ایسا ہی ایک سانحۂ خاموش ہے، جس میں آنسو بہتے نہیں، اندر کہیں ٹوٹتے ہیں۔

ماں محض ایک رشتہ نہیں، ایک مکمل نظامِ رحمت ہے۔ اس کی گود پہلی پناہ گاہ، اس کی دعا پہلی ڈھال، اور اس کی نگاہ پہلا یقین ہوتی ہے۔ طالبِ علم جب علم کے نام پر اس آغوشِ بے مثال سے قدم باہر رکھتا ہے تو وہ دراصل سہولت نہیں چھوڑتا، وہ خود کو امتحان کے حوالے کرتا ہے۔ نرم بستر، گرم ہاتھ، بے سوال خدمت—یہ سب پیچھے رہ جاتا ہے، اور آگے صرف تقدیر کا ننگا راستہ ہوتا ہے۔

ماں کا الوداع ایک مختصر لمحہ نہیں، ایک طویل اذیت ہے جو مسکراہٹ میں لپٹی ہوتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ روکنا خود غرضی ہے، اس لیے اجازت دے دیتی ہے؛ مگر دل ہر روز اس اجازت کی قیمت ادا کرتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں نمی دعا بن جاتی ہے، اور لبوں کی خاموشی صبر کا استعارہ۔ یہی ماں کی عظمت ہے کہ وہ اپنے دل کو زخمی کر کے اپنے بچے کے مستقبل پر مرہم رکھتی ہے۔

طالبِ علم کے لیے یہ ہجرت محض جغرافیے کی تبدیلی نہیں، باطن کی شکست و تعمیر ہے۔ تنہائی اس کا ہم سبق بنتی ہے، محرومی اس کا استاد۔ وہ سیکھتا ہے کہ جب سہارا چھن جائے تو خودی کیسے سنبھالی جاتی ہے، اور جب محبت دور ہو تو ذمہ داری کیسے نبھائی جاتی ہے۔ ہر رات ماں کی یاد دل پر دستک دیتی ہے، اور ہر صبح مقصد اس دستک کا جواب بن جاتا ہے۔

فاصلہ ماں کی محبت کو کم نہیں کرتا، اسے مقدس بنا دیتا ہے۔ دوری میں ماں دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے—اور دعا وہ طاقت ہے جو نظر نہیں آتی مگر راستے موڑ دیتی ہے۔ طالبِ علم کے قدم جب لڑکھڑاتے ہیں تو کسی انجانی قوت کی طرح ماں کی دعا اسے سنبھال لیتی ہے۔ یوں ماں، غیر حاضر ہو کر بھی، ہر موڑ پر موجود رہتی ہے۔

ادب ہمیں سکھاتا ہے کہ تاریخ ان ہی کو یاد رکھتی ہے جو آرام کو قربان اور مقصد کو اختیار کرتے ہیں۔ طالبِ علم کی یہ ہجرت اور ماں کی یہ خاموش رضامندی—یہ دونوں مل کر قربانی کی وہ صورت بناتے ہیں جس سے کردار جنم لیتا ہے اور قومیں بنتی ہیں۔

اور پھر ایک دن، علم کی تھکن لیے، تجربے کی دھول اوڑھے، وہ طالبِ علم لوٹتا ہے۔ ماں کی دہلیز پر رکھے گئے قدم گواہی دیتے ہیں کہ وہ الوداع دراصل جدائی نہیں تھا، ارتقا تھا۔ تب سمجھ آتا ہے کہ کچھ الوداع کہے نہیں جاتے—وہ انسان کو بدل دینے کے لیے آتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment